Full detail

Full detail 00966596293620

03/12/2020

آپ کا شہد پسند نہیں آیا میں نے واپس کرنا ہے" یہ پہلا کسٹمر تھا جس نے شہد کی واپسی کے لئے کال کی، ان کی کال نے مجھے تذبذب میں ڈال دیا ،پالیسی کے تحت رقم بھی واپس کرنا تھی، لہذا ذہن پہ نقصان کا بوجھ ڈالنے کی بجائےتھوڑا دل بڑا کیا اور بولا "برادر... قریب کی جامع مسجد میں شہد کا ڈبہ پہنچا دیجئے ، امام صاحب سے میری بات کروائیے، انہیں میرا اور مجھے ان کا نمبر دے دیجئے اور اپنی رقم واپس وصول کر لیجئے" لمحہ بھر کے لئے انہیں بھی چپ سی لگ گئی "بھائی اس طرح آپ کا نقصان نہیں ہوگا؟ اور پتہ نہیں وہ امام مستحق بھی ہو یا نہیں ؟" "بھائی دیکھئے جہاں تک نقصان کی بات ہے وہ تو ہوچکا چاہے آپ واپس بھی بھیج دیں، لیکن ڈبہ کھل چکا ہے، محفوظ پیکنگ مشکل ہوگی، آپ کے لئے بھی وقت نکال کر یہ سارے مرحلے مشکل سے طے ہوں گے اسی لئے آپ کی پریشانی کے پیش نظر آسان حل بتایا ہے اگر تو پیکنگ، پیکجنگ، کورئیر بکنگ تک کے مرحلے طے کر سکتے ہیں تو ٹھیک ہے بھیج دیجئے۔ لیکن امام مسجد والا آسان پراسس ہے اسی لئے آپ کو وہی بتلایا، اب وہ مستحق ہیں یا نہیں اس سے کوئی سروکار ہی نہیں کیونکہ یہ تو ہدیہ ہے صدقہ نہیں۔ صدقہ مستحق کو دیا جاتا ہے ہدیہ تو بادشاہ کو بھی پیش کیا جاسکتا ہے" بہرحال انہوں نے امام مسجد والا,آپشن پسند کیا اور نماز کے بعد امام مسجد کو یہ ہدیہ پیش کیا، مجھ سے بات کروائی اور امام صاحب حیرت میں گم مجھ سے پوچھتے ہیں "جناب کیا آپ مجھے جانتے ہیں ؟"نہیں مولانا ۔۔" "تو پھر یہ ہدیہ ۔۔؟؟" ہمارا مولویانہ رشتہ تو ہے نا" تھوڑا سا ہنستے ہوئے بولے "وہ تو ٹھیک ہے لیکن ،،"لیکن ویکن کچھ نہیں، آپ ایک کام کیجئے، شہد چیک کیجئے، پسند آئے تو لوگوں کو بتائیے گا، نہیں تو کسی اور دے دیجئے گا۔" اور پھر شکریہ کے بعد کال آف ہوگئی، متعلقہ کسٹمر کو 2500 روپے ٹرانسفر کردئیے۔۔ تین دن بعد کالز کا تانتا بندھ گیا “شہد چاہئے تھا، سنا ہے آپ کے پاس اچھا شہد ہے" میں حیران رہ گیا دو دنوں میں پندرہ کلو کے پندرہ آرڈرز ملے جس بھی کسٹمر سے پوچھا کہ آپ کو کہاں سے پتہ چلا؟ ایک ہی جواب ملا "امام صاحب نے بتایا ہے" شکریہ کےلئے کال کی تو امام صاحب بولے "بس میں نے تو چیک کروایا، جس طرح عام طور پہ اکرام کیا جاتا ہے۔اسی طرح۔۔ تو کچھ ساتھیوں کو پسند آگیا، انہوں نے پوچھا تو آپ کا نمبر دے دیا اور شاید انہوں نے ایک دوسرے کو بتایا ہوگا" آپ اگر ایک اچھے کام کا تہیہ کرلیں تو رب تعالی کہیں اور سے آپ کے فائدے کا بندوبست ضرور فرما دیتے ہیں۔رب کے ساتھ کی گئی تجارت میں کبھی خسارہ نہیں ہوتا۔ آپ بھی کرکے دیکھئے. منقول

خالص شہد کے خریدار وٹس اپ پر رابطہ کریں ان شاء اللہ تسلی ہوگی 923156970574
Link pr click karein

https://wa.me/+923156970574

02/12/2020

کمال نفس اور مکارمِ اخلاق
آپﷺ کے چہرے پر ہمیشہ بشاشت رہتی، سہل خو اور نرم پہلو تھے۔ جفا جو اور سخت خو نہ تھے۔ نہ چیختے چلاتے تھے، نہ فحش بکتے تھے نہ زیادہ عتاب فرماتے تھے۔ نہ بہت تعریف کرتے تھے، جس چیز کی خواہش نہ ہوتی اس سے تغافل برتتے تھے۔ آپﷺ سے مایوسی نہیں ہوتی تھی۔ آپﷺ نے تین با توں سے اپنے نفس کو محفوظ رکھا۔ [۱] ریاء سے [۲ ] کسی چیز کی کثرت سے [۳]اور لا یعنی بات سے، اور تین با توں سے لوگوں کو محفوظ رکھا۔ یعنی آپﷺ [۱ ] کسی کی مذمت نہیں کرتے تھے [۲ ] کسی کو عار نہیں دلاتے تھے [ ۳ ] اور کسی کی عیب جوئی نہیں کرتے تھے۔ آپﷺ وہی بات نوک زبان پر لاتے تھے جس میں ثواب کی امید ہوتی۔ جب آپﷺ تکلم فرماتے تو آپﷺ کے ہم نشین اپنے سر جھکا لیتے گویا ان کے سروں پر چڑیا ہے۔ اور جب آپﷺ خاموش ہوتے تو لوگ گفتگو کرتے۔ لوگ آپﷺ کے پاس گپ بازی نہ کرتے۔ آپ کے پاس جو کوئی بولتا سب اس کے لیے خاموش رہتے، یہاں تک کہ وہ اپنی بات پوری کر لیتا۔ ان کی بات ان کے پہلے شخص کی بات ہوتی۔ جس بات سے سب لوگ ہنستے اس سے آپ بھی ہنستے، اور جس بات پر سب لوگ تعجب کرتے اس پر آپﷺ بھی تعجب کرتے۔ اجنبی آدمی بات میں جفا سے کام لیتا تو اس پر آپ صبر کرتے، اور فرماتے : جب تم لوگ حاجت مند کو دیکھو کہ وہ اپنی حاجت کی طلب میں ہے تو اسے سامان ضرورت سے نواز دو۔ آپ احسان کا بدلہ دینے والے کے سوا کسی سے ثناء کے طالب نہ ہوتے۔

خارجہ بن زید رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبیﷺ اپنی مجلس میں سب سے با وقار ہوتے۔ اپنا کوئی عضو باہر نہ نکالتے۔ بہت زیادہ خاموش رہتے۔ بلا ضرورت نہ بولتے۔ جو شخص نامناسب بات بولتا اس سے رُخ پھیر لیتے۔ آپ کی ہنسی مسکراہٹ تھی۔ اور کلام دو ٹوک، نہ فضول نہ کوتاہ، آپ کے صحابہ کی ہنسی بھی آپ کی توقیر و اقتداء میں مسکراہٹ ہی کی حد تک ہوتی۔

حاصل یہ کہ نبیﷺ بے نظیر صفاتِ کمال سے آراستہ تھے۔ آپ کے رب نے آپ کو بے نظیر ادب سے نوازا تھا حتیٰ کہ اس نے خود آپ کی تعریف میں فرمایا "یقیناً آپ عظیم اخلاق پر ہیں۔" (۶۸ : ۴)

اور یہ ایسی خوبیاں تھیں جن کی وجہ سے لوگ آپﷺ کی طرف کھینچ آئے۔ دلوں میں آپﷺ کی محبت بیٹھ گئی۔ اور آپ کو قیادت کا وہ مقام حاصل ہوا کہ لوگ آپﷺ پر وارفتہ ہو گئے۔ انہی خوبیوں کے سبب آپ کی قوم کی اکڑ اور سختی نرمی میں تبدیل ہوئی یہاں تک کہ یہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو گئی۔

یاد رہے کہ ہم نے پچھلی پوسٹوں میں آپﷺ کی جن خوبیوں کا ذکر کیا ہے، وہ آپ کے کمال خلق اور عظیم صفات کے مظاہر کی چند چھوٹی چھوٹی لکیریں ہیں۔ ورنہ آپ کے مجد و شرف اور شمائل و خصائل کی بلندی اور کمال کا یہ عالم تھا کہ ان کی حقیقت اور تہ تک نہ رسائی ممکن ہے، نہ اس کی گہرائی ناپی جا سکتی۔

بھلا عالم وجود کے اس سب سے عظیم بشر کی عظمت کی کنہ تک کس کی رسائی ہو سکتی ہے، جس نے مجدو کمال کی سب سے بلند چوٹی پر اپنا نشیمن بنا یا۔ اور اپنے رب کے نور سے اس طرح منوّر ہوا کہ کتاب الٰہی ہی کو اس کا وصف اور خُلق قرار دیا گیا، یعنی …

قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن.

اللّٰہم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی إبراہیم وعلی آل إبراہیم إنک حمید مجید۔ اللہم بارک علی محمد وعلی محمد کما بارکت علی إبراہیم وعلی آل إبراہیم إنک حمید مجید۔

19/10/2020
شرمندگی _____________________________________________ ایک شخص نے خالص ریاضی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی  مگر بدقسمتی سے اسے ...
01/10/2020

شرمندگی
_____________________________________________

ایک شخص نے خالص ریاضی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی

مگر بدقسمتی سے اسے کہیں ملازمت نا مل سکی

کافی عرصہ تک وہ فارغ رہا
چارو ناچار اسے بلدیہ میں جھاڑو دینے پر کام ملا
وہ وہاں کام کرتا رہا
اب وہ کافی عرصے کا ہو چکا تھا
پھر اس کا تبادلہ ایک سکول میں ہوا جہاں اسے سکول کی صفائی ستھرائی کا کام سونپا گیا وہاں اسے کوئی نہیں جانتا تھا

ایک روز چوتھی جماعت کے استاد نے اسے طلب کیا

استاد طلباء کو ریاضی کی تعلیم دے رہا تھا

استاد نے عام انداز میں کہا :

" دیکھو بچوں اگر تم تعلیم حاصل نہیں کرو گے تو کامیاب نہیں ہو گے
اپنے صفائی والے چچا ( وہی شخص) کو دیکھو اگر تعلیم حاصل نہیں کرو گے تو ایسی ہی نوکری کرنی پڑے گی "

استاد نے اپنی بات طلباء کو سمجھانے کے لیے اس شخص سے پوچھا :

" کیا آپ بورڈ پر لکھے گئے کسی بھی سوال کو حل کر سکتے ہیں ؟"

اس نے بورڈ کی طرف دیکھا سوال انتہائی آسان اور پہلے مرحلے کے تھے

مگر اس نے سر جھکا کر شرمندگی اور غم سے کہا :

" نہیں "

_____________________________________________

This Post Is Copy From IMAR Writes

01/09/2020
23/08/2020
14/08/2020
راحت اندوری کے بڑے صاحبزادے ستلج نے ان کا آخری کلام شیٸر کیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ راحت اندوری نے موت کی آہٹ محسوس کر...
12/08/2020

راحت اندوری کے بڑے صاحبزادے ستلج نے ان کا آخری کلام شیٸر کیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ راحت اندوری نے موت کی آہٹ محسوس کر لی تھی۔

آخری غزل

نٸے سفر کا جو اعلان بھی نہیں ہوتا
تو زندہ رہنے کا ارمان بھی نہیں ہوتا

تمام پھول وہی لوگ توڑ لیتے ہیں
وہ جن کے کمروں میں گلدان بھی نہیں ہوتا

خموشی اوڑھ کے سوٸی ہیں مسجدیں ساری
کسی کی موت کا اعلان بھی نہیں ہوتا

وبا نے کاش ہمیں بھی بلا لیا ہوتا
تو ہم پر موت کا احسان بھی نہیں ہوتا

Address

Al Lith

Telephone

0596293620

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Full detail posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Full detail:

Share

Category