Asasah Traders

Asasah Traders Selling Property and other things that are related to human needs

12/09/2024

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فجر کی نماز میں سورہ روم کی تلاوت شروع کی تو قرأت میں اختلاط و نسیان واقع ہونے لگا، نماز سے فراغت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مجھے دوران نماز تلاوت قرآن میں اختلاط ونسیان ہو رہا تھا، جس کی وجہ یہ تھی کہ کچھ لوگ ہمارے ساتھ نمازادا کرتے ہیں لیکن وہ اچھی طرح وضو نہیں کرتے، جو شخص ہمارے ساتھ نماز ادا کرے اسے چاہیے کہ وہ اچھی طرح وضو کرے۔"

ایک دوسری روایت میں ہے کہ :

’’ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، لیکن اچھی طرح سے وضو نہیں کرتے ہیں، ان کی وجہ سے ہمیں نماز میں قرآن پڑھتے ہوئے التباس ہوجاتا ہے۔‘‘

لہٰذا ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ باجماعت نماز میں مقتدیوں کے اچھی طرح سے وضو کیے بغیر شریک ہونے کا اثر امام پر پڑتا ہے اور ان کی وجہ سے امام سے غلطی واقع ہوتی ہے، لیکن ضروری نہیں کہ امام سے غلطی مقتدیوں کے ناقص وضو کی وجہ سے ہی ہو، بلکہ امام کی نماز میں توجہ نہ ہونے کی وجہ سے یا ویسے بھی غلطی ہوسکتی ہے۔

مسند أحمد مخرجًا (25/ 208):

’’ حدثنا إسحاق بن يوسف، عن شريك، عن عبد الملك بن عمير، عن أبي روح الكلاعي، قال: صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة، فقرأ فيها سورة الروم، فلبس بعضها، قال: «إنما لبس علينا الشيطان، القراءة من أجل أقوام يأتون الصلاة بغير وضوء، فإذا أتيتم الصلاة فأحسنوا الوضوء».‘‘

مسند أحمد مخرجًا (25/ 210):

’’ حدثنا أبو سعيد، مولى بني هاشم، حدثنا زائدة، حدثنا عبد الملك بن عمير، قال: سمعت شبيبا أبا روح، من ذي الكلاع،، أنه صلى مع النبي صلى الله عليه وسلم الصبح فقرأ بالروم، فتردد في آية فلما انصرف قال: «إنه يلبس علينا القرآن، أن أقواما منكم يصلون معنا لا يحسنون الوضوء، فمن شهد الصلاة معنا فليحسن الوضوء».‘‘

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (1/ 353):

’’ وعن شبيب بن أبي روح - رضي الله عنه - «عن رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى صلاة الصبح فقرأ الروم فالتبس عليه، فلما صلى، قال: ما بال أقوام يصلون معنا لا يحسنون الطهور؟ ! وإنما يلبس علينا القرآن أولئك» . رواه النسائي.

6 ستمبر" یوم دفاع پاکستان"آج 6 ستمبر ہے اگر چہ کچھ لوگ ناخوش ہیں کہ آفیشلی کوئی چھٹی کا اعلان نہیں کیا گیا ، لیکن اس کا ...
05/09/2024

6 ستمبر" یوم دفاع پاکستان"
آج 6 ستمبر ہے اگر چہ کچھ لوگ ناخوش ہیں کہ آفیشلی کوئی چھٹی کا اعلان نہیں کیا گیا ، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس دن کی اہمیت کو بھول جائیں اور ہمیں اور ہمارے آنے والی نسلوں بھی اس کے بارے کوئی علم نہ رہے ، عظیم قومیں ہمیشہ اپنا ماضی یادرکھتی ہیں اور اس سے سبق حاصل کرتی ہیں ۔
6 ستمبر 1965کو پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک جنگ شروع ہوئی، جس کی بنیادی وجوہات میں کشمیر کا تنازعہ شامل تھا۔ بھارت نے کشمیر پر قبضہ جمانے کے لئے جارحانہ اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں پاکستان نے اپنی سرحدوں کی حفاظت اور کشمیری عوام کی مدد کے لیے جوابی کارروائی کی۔
اس لئے ہر سال 6 ستمبر کو پاکستان بھر میں یوم دفاع پاکستان بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ یہ دن 1965ء کی جنگ کے دوران پاکستان کی بہادری، قربانی اور اتحاد کی داستان کو یاد کرتا ہے۔
6 ستمبر کو بھارت نے پاکستانی سرحدوں پر حملہ کیا، لیکن پاکستانی افواج نے نہایت جرات اور شجاعت کے ساتھ اس حملے کا جواب دیا۔ پاکستانی فوج نے بھارت کی فوجی پیش قدمی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا اور اپنی دفاعی حکمت عملی کے ذریعے بھارتی فوج کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔ لاہور، سیالکوٹ، اور دیگر اہم مقامات پر ہونے والی جھڑپوں نے عالمی سطح پر پاکستان کی عسکری صلاحیت کو اجاگر کیا۔
یوم دفاع پاکستان صرف ایک تاریخی دن نہیں بلکہ یہ دن ہمارے قومی جذبے، اتحاد، اور وطن پرستی کی تجدید کا بھی دن ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنا، فوجی حوصلے کو بلند کرنا، اور قوم کو اس بات کی یاد دہانی کرانا ہے کہ ہم سب مل کر کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
یوم دفاع پاکستان ہمیں یہ سبق سکھاتا ہے کہ اتحاد، عزم، اور حب الوطنی کے ذریعے ہر مشکل سے نکلنا ممکن ہے۔ یہ دن ہمارے شہداء کی قربانیوں کی یادگار ہے اور ہمیں اپنے وطن کی قدر کرنے اور اس کی حفاظت کے لیے ہمیشہ تیار رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس دن ہمیں اپنی فوج کی بے پناہ قربانیوں اور قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے ایک نئی عزم کے ساتھ وطن کی خدمت کرنے کا عہد کرنا چاہیے۔
پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت، قومی یکجہتی، اور قومی وقار کو برقرار رکھنے کے عزم کے ساتھ، یوم دفاع پاکستان ہمارے دلوں میں ہمیشہ تازہ رہے گا۔
عدنان شہزاد

23/08/2024

ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی شام جب اپنے محل میں داخل ھو رھا تھا تو ایک بوڑھے دربان کو دیکھا جو محل کے صدر دروازے پر پُرانی اور باریک وردی میں پہرہ دے رھا تھا۔
بادشاہ نے اُس کے قریب اپنی سواری کو رکوایا اور اُس ضعیف دربان سے پوچھنے لگا:
"سردی نہیں لگ رھی؟"
دربان نے جواب دیا: "بہت لگتی ھے حضور۔ مگر کیا کروں، گرم وردی ھے نہیں میرے پاس، اِس لئے برداشت کرنا پڑتا ھے۔"
"میں ابھی محل کے اندر جا کر اپنا ھی کوئی گرم جوڑا بھیجتا ھوں تمہیں۔"
دربان نے خوش ھو کر بادشاہ کو فرشی سلام کہے اور بہت تشکّر کا اظہار کیا،
لیکن بادشاہ جیسے ھی گرم محل میں داخل ھوا، دربان کے ساتھ کیا ھوا وعدہ بھول گیا۔
صبح دروازے پر اُس بوڑے دربان کی اکڑی ھوئی لاش ملی اور قریب ھی مٹّی پر اُس کی یخ بستہ انگلیوں سے لکھی گئی یہ تحریر بھی:
"بادشاہ سلامت،
میں کئی سالوں سے سردیوں میں اِسی نازک وردی میں دربانی کر رھا تھا
مگر کل رات آپ کے گرم لباس کے وعدے نے میری جان نکال دی۔"
*سہارے انسان کو کھوکھلا کر دیتے ہیں اسی طرح امیدیں کمزور کر دیتی ہیں اپنی طاقت کے بل بوتے جینا شروع کیجیے۔**۔
سہاروں کی بساکھیاں پھینک کر اپنی طاقت آزمائیے!
منقول

ارشد ندیم پیرس میں اولمپکس گیم جیولن تھرو کے مقابلوں میں گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ پورے پاکستان کو یہ جی...
09/08/2024

ارشد ندیم پیرس میں اولمپکس گیم جیولن تھرو کے مقابلوں میں گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ پورے پاکستان کو یہ جیت مبارک ہو۔

ذرا رکیں!  ایک دفعہ ضرور درود شریف پڑھیں۔آج جمعۃ المبارک ہے، زیادہ مرتبہ جتنا آپ پڑھ سکیں اتنا پھل ملے گا۔ انشاءاللہکمنٹ...
28/06/2024

ذرا رکیں!
ایک دفعہ ضرور درود شریف پڑھیں۔آج جمعۃ المبارک ہے، زیادہ مرتبہ جتنا آپ پڑھ سکیں اتنا پھل ملے گا۔ انشاءاللہ
کمنٹس میں بتائیں کہ آپ نے کتنی دفعہ پڑھا۔

07/02/2024

صبح وشام ہرروز حسب ذیل تسبیحات پڑھنے کا معمول بنائیں:

(۱) استغفار ایک تسبیح یعنی ۱۰۰مرتبہ أَسْتَغْفِرُ اللَّہَ الَّذِی لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیَّ الْقَیُّومَ، وَأَتُوبُ إِلَیْہِ․

(۲) کلمہ طیبہ: ایک تسبیح یعنی ۱۰۰مرتبہ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہِ․

(۳) درود شریف ایک تسبیح یعنی ۱۰۰مرتبہ چھوٹا بڑا جو درود بھی آپ کو یاد ہو پڑھ لیا کریں۔

(۴) تیسرا کلمہ: ایک تسبیح یعنی ۱۰۰مرتبہ سبحان اللہ والحمد للہ ولا إلہ إلا اللہ واللہ أکبر ولا حول ولا قوة إلا باللہ العلي العظیم․

یہ چاروں تسبیحات اعلی درجہ کی مانی گئی ہیں، حضرت شیخ مولانا زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ ترقیات کا زینہ ہیں۔ یعنی ان تسبیحات کو خلوص اور پابندی کے ساتھ پڑھنے سے دنیاوی، دینی، اخروی ہرطرح کی ترقی حاصل ہوتی ہے۔ مذکورہ تینوں سورتوں کا پڑھنا ہرچیز سے حفاظت کے لیے اکسیر ہے۔ اسے بھی پڑھتے رہیں۔

Address

Islamabad
45551

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Asasah Traders posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category