05/02/2026
500 ملین ڈالر سے بھی زیادہ کی گیم خطرے میں پڑی ہوئی ہے، لیکن اس پوری صورتحال میں اس سے بھی زیادہ دلچسپ اور مزے کی بات ایک اور ہے، جس پر کم ہی لوگ توجہ دے رہے ہیں۔
اور وہ یہ کہ آئی سی سی کے قوانین کے مطابق اگر 15 فروری کے میچ میں بھارت کو دو پوائنٹس چاہیے تو اس کے لیے بھارتی ٹیم کو باقاعدہ طور پر سری لنکا جانا ہوگا، کولمبو کے اسٹیڈیم میں حاضری لگانی ہوگی، پوری ٹیم تیاری کے ساتھ میدان میں اترے گی، میچ کا مکمل ماحول بنایا جائے گا، قومی ترانے ہوں گے، امپائرز اپنی جگہ سنبھالیں گے، اور سب کچھ ایسے ہوگا جیسے میچ کھیلا جانا ہے۔
اس کے بعد اگر پاکستانی ٹیم میدان میں نہیں اترتی، تب ہی جا کر بھارت کو واک اوور کی بنیاد پر وہ دو پوائنٹس مل سکیں گے۔ یعنی صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ پاکستان نہیں آیا، بلکہ بھارت کو ہر حال میں گراؤنڈ میں موجود ہو کر ثابت کرنا ہوگا کہ وہ میچ کھیلنے کے لیے تیار تھا۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان اگرچہ بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑا ہے اور اس معاملے میں اس نے بنگلہ دیش کے حق میں ووٹ بھی دیا تھا، لیکن میچ نہ کھیلنے کی آفیشل وجہ کے طور پر یہ بات سامنے نہیں لائی جا سکتی۔ پسِ پردہ یہ عنصر موجود ہو سکتا ہے، مگر سرکاری سطح پر آئی سی سی رولز کے مطابق اسے وجہ بنانا ممکن نہیں۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں ملک نہیں کھیل رہا تو ہم بھی نہیں کھیل رہے۔ پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ ہے۔ اس کے حق میں ووٹ بھی دیا اور پس پردہ میچ نہ کھیلنے کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے لیکن پاکستان کی جانب سے جو مؤقف سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے بلوچستان میں مداخلت اور عدم استحکام پیدا کرنے کے الزامات کے باعث حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ایسے ماحول میں میچ کھیلنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ سرکاری طور پر بیان کی جا رہی ہے۔
نوٹ:
ٹرافی کے انتظار کے بعد پوری ٹیم کا انتظار کیسا ہوگاــــــ تصویر ذرا غور سے دیکھیں مزہ نہ آئے تو پیسے واپس 😁😁