ShineNest Car Wash Jauharabad

  • Home
  • ShineNest Car Wash Jauharabad

ShineNest Car Wash Jauharabad We provide home service of car wash in Jauharabad.

07/03/2023
22/02/2023

جوہرآباد اور خوشاب کے لیے!
اب گھر بیٹھے اپنی گاڑی دھلوائیں پریشر واشر کے ساتھ۔

We provide home service of car wash in Jauharabad.

کیا آپ دوران سفر گاڑیوں کے درمیان مناسب فاصلہ رکھتے ہیں؟Courtesy PakWheels.comکیا آپ کو کسی ایسی ہنگامی صورتحال کا سامنا...
17/02/2023

کیا آپ دوران سفر گاڑیوں کے درمیان مناسب فاصلہ رکھتے ہیں؟
Courtesy PakWheels.com
کیا آپ کو کسی ایسی ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ جب سفر کے دوران اچانک بریک لگانے کے باوجود اگلی گاڑی سے آپ کا تصادم ہوگیا ہو؟ اگر ہاں تو آپ کو بخوبی اندازہ ہوچکا ہوگا کہ اگلی گاڑی سے فاصلہ رکھنا کتنا ضروری ہے۔ قابل افسوس امر یہ ہے کہ سفر کے دوران اکثر ڈرائیور صاحبان اس بات کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔ ڈرائیونگ کے دوران مناسب فاصلہ نہ ہونے کی وجہ ہی اکثر حادثات کا سبب بنتی ہے۔ ایک طرف پاکستان میں گاڑی چلانے کی بنیادی تعلیم اور تربیت حاصل کرے بغیر ہی ڈرائیور بنا جانے کا رجحان عام ہے تو دوسری طرف شاہراہوں پر گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ اور ٹریفک کی ابتر صورتحال نے حادثات کی شرح میں قابل ذکر اضافہ بھی کردیا ہے۔

عام طور پر آپ سفر کرتے ہوئے اگلی گاڑی کے کتنا قریب چلے جاتے ہیں؟ کیا آپ اتنا قریب چلے جاتے ہیں کہ گاڑی کی ڈگی میں رکھے سامان کو دیکھ سکیں؟ اگر ہاں تو یقین جانیئے آپ بہت بڑا خطرہ مول لے رہے ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ وقت نکال کر اپنے گاڑی چلانے کے انداز پر غور کریں اور اسے بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ اگلی گاڑی کا ڈرائیور چاہے جتنی بھی اچانک یا حماقت سے بریک مارے، قانون اعتبار سے آپ اپنے اور اس کے دونوں ہی کے نقصان کے ذمہ دار ہوں گے۔

چاہے آ پ کی گاڑی میں ڈرم بریکس، ڈسک بریکس، ہائیڈرالک بریکس، ABS بریکس یا کسی بھی قسم کےقدیم یا جدید بریکس لگے ہوں، ان تمام کی کارکردگی کا انحصار گاڑی چلانے والے پر ہی ہوتا ہے۔ اگر آپ بروقت بریک نہیں لگاتے تو کسی بھی قسم کا بریک ہونے کا فائدہ نہیں۔ ماہرین کے خیال میں ہنگامی صورتحال میں ایک انسان کو فوری ردعمل ظاہر کرنے کے لیے 1.5 سیکنڈز کا وقفہ درکار ہوتا ہے لہٰذا اس سے کم وقت میسر ہونے کی صورت میں بریکس لگانے کے باوجود حادثات کا امکان بہت زیادہ ہے۔

غرض یہ کہ معاملہ بہت سیدھا سا ہے اور وہ یہ کہ اگلی گاڑی سے جتنا کم فاصلہ ہوگا ہنگامی صورتحال میں بریک لگانے کے لیے اتنا ہی کم وقت درکار ہوگا۔ میں یہ ہر گز نہیں کہہ رہا کہ آپ آگے والی گاڑی سے بہت زیادہ فاصلہ رکھیں بلکہ صرف اتنا عرض کر رہا ہوں کہ گاڑیوں کے درمیان اتنا فاصلہ ضرور ہونا چاہیے کہ جب بریک لگانے کا وقت آئے تو آپ کی گاڑی تصادم سے تھوڑا پہلے ہی رک جائے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اس ضمن میں تین سیکنڈز کا قانون اپنان چاہیے۔ یعنی دونوں گاڑیوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہو کہ جب آگے والی گاڑی رکے تو آپ کے پاس بریک لگانے کے لیے تین سیکنڈ کا وقت میسر ہو۔ اس طرح آپ گاڑیوں کو تصادم سے محفوظ رکھا جاسکے۔ اس ضمن میں گاڑی کی رفتار بھی ایک اہم امر ہے۔
ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ گاڑی کی نوعیت، سڑک کی حالت، موسم کی صورتحال اور دیگر اہم عوامل بھی گاڑی کے بریک اور اس کی کارکردگی پر اثرا نداز ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا مکمل توجہ کے ساتھ ڈرائیونگ کریں۔

گاڑی کی فیول اکانومی بہتر بنانے کے 14 طریقےCourtesy PakWheels.comدنیا بھر میں گلوبل وارمنگ ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے اور ا...
14/02/2023

گاڑی کی فیول اکانومی بہتر بنانے کے 14 طریقے

Courtesy PakWheels.com

دنیا بھر میں گلوبل وارمنگ ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے اور اب لوگ اس بارے میں بہت زیادہ غور کرنے لگے ہیں کہ انہیں اپنے پیسے کہاں خرچ کرنے ہیں اور کہاں نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فیول کم خرچ کرنے والی گاڑیوں کی مانگ میں زبردست اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس کا اندازہ نیچرلی-اسائریٹڈ انجن کے مقابلے میں الیکٹرک، ہائبرڈ اور ٹربوچارجڈ گاڑیوں کی فروخت میں تیزی سے لگایا جاسکتا ہے۔ بہرحال، کچھ ایسے بھی طریقے موجود ہیں جو عام گاڑیوں کو بھی فیول کم خرچ کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف آپ کے پیسوں کی بچت ممکن ہے بلکہ دنیا سے آلودگی میں کمی کی کوششوں کو بھی مدد ملتی ہے۔

ٹائر پریشر
گاڑی کے ٹائر میں ہوا یعنی پریشر کو چیک کرتے رہنا چاہیے اور انہیں درکار پریشر کے مطابق رکھنا چاہیے۔ ٹائروں میں کم پریشر کی وجہ سے انجن کو انہیں گھمانے کے لیے زیادہ قوت لگانا پڑتی ہے جس سے فیول بھی زیادہ خرچ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پریشر کی کمی سے ٹائر فلیٹ ہونا شروع ہوجاتا ہے اور اس کی گولائی میں کمی آجانے کی وجہ سے گھومتے ہوئے مشکل پیش آتی ہے۔ اسی طرح گھسے ہوئے ٹائر بھی گاڑی میں فیول زیادہ خرچ ہونے کی وجہ بنتے ہیں۔

کروز کنٹرول
اگر آپ لمبے سفر پر جا رہے ہیں تو گاڑی میں دستیاب کروز کنٹرول کو ضروری استعمال کریں۔ اس سے نہ صرف فیول کی بچت ہوتی ہے بلکہ پریشانی اور تناؤ بھی کم ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہائی وے پر کروز کنٹرول کی مدد سے 6 فیصد فیول بچایا جاسکتا ہے۔

بیٹری کیبل اور اوکسیجن سنسرز
آلٹرنیٹر کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے اگر بیٹری کیبل خراب ہوں یا گھس جائیں۔ یوں یہ بھی فیول زیادہ خرچ ہونے کی وجہ بنتی ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جب بھی انجن چیک کریں، بیٹری کیبلز کو بھی صاف کریں۔ ماڈرن گاڑیوں میں اوکسیجن سینسرز بھی ہوتے ہیں جو غیر معیاری فیول کی وجہ سے جام ہوسکتے ہیں اور اس لیے فیول زیادہ خرچ ہونے لگتا ہے۔ اوکسیجن سینسرز دراصل ایگزاسٹ سسٹم کا حصہ ہیں اور ایک مرتبہ گھس جانے کے بعد انہیں تبدیل کرلینا ضروری ہے۔

گیئر اور انجن کو بند کرنا
اگر آپ بہت زیادہ وقت اسٹارٹ گاڑی کو کھڑا رکھتے ہیں تو اس سے بھی فیول اکانومی متاثر ہوتی ہے۔ اگر آپ گاڑی کو ایک منٹ سے زیادہ دیر تک کھڑا رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو بہتر ہوگا کہ انجن بند کردیں۔ ماڈرن گاڑیوں میں ایسی ٹیکنالوجیز شامل ہیں جو گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کم فیول خرچ کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ انجن کو غیر ضروری اور بار بار ریس نہ دیں۔ صرف گاڑی چلانے سے کچھ دیر پہلے انجن کو چلتا چھوڑ دیں تاکہ وہ گرم ہوجائے اور آئل پریشر بھی بن جائے۔ انجن کو مناسب وقت دیئے بغیر ایک جھٹکے سے آگے کے گیئر دینا بھی فیول زیادہ خرچ ہونے کی وجہ ہے۔ اسی طرح کم گیئر پر گاڑی کو زیادہ دیر تک چلانے اور ریس دینے سے بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ بعض مرتبہ گاڑی کا ڈرائیور انسٹرومنٹ کلسٹر گیئر بدلنے کا اشارہ دیتا ہے۔ اس طرح گاڑی رفتار کے مطابق درست گیئر رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

ائیر فلٹر اور انجن کا چیک اپ
گاڑی کے انجن کا چیک اپ باقاعدگی سے کروائیں اور دیے گئے یوزر مینوئل میں درج تاریخوں پر نظر رکھیں۔ اگر آپ دور رس فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں مثلاً فیول میں بچت تو یہ بہت ضروری ہے۔ اس طرح انجن پر بڑے خرچے سے بھی بچ جائیں گے اور اسے لمبے عرصے تک استعمال کر پائیں گے۔

کم وزن
جب بھی لمبے سفر پر جانے کا ارادہ ہو، صرف وہی چیز اپنے ساتھ رکھیں جس کی اشد ضرورت ہو اور ایسی چیزیں نہ رکھیں جو ضروری نہ ہوں۔ غیر ضروری چیزوں کو گاڑی سے نکال دیں اس طرح اس کا وزن کم ہوجائے گا۔ اور گاڑی کا وزن جتنا کم ہوگا اتنی ہی بہتر فیول اکانومی حاصل ہوگی۔ اضافی وزن کی وجہ سے فیول زیادہ خرچ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ گاڑی کو صاف ستھرے راستوں پر ہی چلائیں کیوں کہ خراب راستوں پر گاڑی کی رفتار بار بار کم یا زیادہ کرنے سے بھی فیول زیادہ خرچ ہوتا ہے۔

فیول اوکٹین
گاڑی کے ساتھ دیے گئے یوزر مینوئل سے درست فیول اوکٹین لازمی دیکھیں کیوں کہ غلط گریڈ کا فیول بھی خراب کارکردگی کی وجہ بن سکتا ہے۔ انجن کو دیکھتے ہوئے اوکٹین ریٹنگ دی جاتی ہے اس لیے اس پر توجہ ضرور دینی چاہیے۔ اس کے علاوہ جتنے زیادہ اوکٹین والا فیول ہوگا، عام طور پر قیمت بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ اس لیے آپ کو غیر ضروری مہنگا فیول خریدنے کی ضرورت نہیں بس یوزر مینوئل کے مطابق ہی عمل کریں اور بہتر فیول اکانومی پائیں۔

انجن آئل گریڈ
گاڑی کے فیول کی طرح انجن آئل گریڈ کا درست ہونا بھی اہم ہے۔ اس کے لیے بھی یوزر مینوئل دیکھیں کہ کونسے گریڈ کا انجن آئل تجویز کیا گیا ہے۔ یاد رکھیے کہ آئل جتنا زیادہ گاڑھا ہوگا، اتنا ہی زیادہ انجن کو پمپ کرنے میں مشکل ہوگی۔

مکینکی ڈریگ
اپنے پیر کو آرام دینے کے لیے اسے بریک پیڈل پر نہ رکھیں۔ کچھ ایسا انجانے میں بھی کر بیٹھتے ہیں۔ یاد رکھیے کہ بریک پیڈل پر ہلکا سا دباؤ بھی بریک پیڈل کے ذریعے گاڑی کے مکینکی پرزوں پر دباؤ کی وجہ بن سکتا ہے۔ اسی دباؤ کو مکینکی ڈریگ کہتے ہیں۔ اس ڈریگ کو کم کرنے لیے گاڑی زیادہ فیول خرچ کرتی ہے۔ مکینکی ڈریگ کی وجہ سے دیگر پرزوں کے گھسنے اور خراب ہونے کا بھی خدشہ ہوسکتا ہے۔

چیسز اور سسپنشن
اگر گاڑی کے چیسز اور سسپنشن کی الائنمنٹ خراب ہو تو بھی گاڑی کی فیول اکانولی متاثر ہو سکتی ہے۔ مڑا ہوا ایکسل، پہیے، ٹوٹے ہوئے اسپرنگز اور گھسے ہوئے شاکس کی وجہ سے بھی انجن پر دباؤ بڑھتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ صورتحال گاڑی میں سفر کرنے والوں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

انجن اسٹارٹ/اسٹاپ
ماڈرن گاڑیوں میں انجن اسٹارٹ اور بند ہونے کی سہولت دی جا رہی ہے جس کا بنیادی مقصد خاص طور پر شہری علاقوں میں فیول کی بچت ممکن بنانا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ ٹریفک سگنل پر رکتے ہیں تو انجن خودبخود بند ہوجاتا ہے اور جیسے ہی آپ ریس دیتے ہیں، ویسے ہی انجن پھر سے اسٹارٹ ہوجاتا ہے۔ اس طرح شہر میں گھومتے پھرتے آپ کا بہت سا فیول بچ جاتا ہے۔

گریوٹی کا استعمال
اونچائی سے نیچے اترتے ہوئے جتنا جلدی ممکن ہو، ریس پر سے پیر ہٹا دیں اور گریوٹی کو اپنا کام کرنے دیں۔ جب گاڑی خود ہی نیچے کی طرف جا رہی ہو تو اس کی رفتار بڑھانے کا فائدہ نہیں کیوں کہ پھر بریک بھی استعمال کرنا پڑے گا۔ گریوٹی پر انحصار سے فیول اکانومی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

ائیر کنڈیشننگ
اے سی یعنی ائیر کنڈیشننگ کا استعمال صرف ضرورت کے وقت کریں۔ اس کے علاوہ دھوپ میں زیادہ دیر تک کھڑے رہنے سے گرم ہوجانے والی گاڑی میں نہ بیٹھیں اور کھڑکیاں وغیرہ کھول کر پہلے اس کی گرم ہوا باہر نکلنے دیں۔ اس کے بعد گاڑی میں بیٹھ کر اے سی چلانے سے انجن پر کم زور پڑے گا اور وہ کم فیول خرچ کرے گا۔

سفر طے کریں
پہلے سے یہ بات طے کرلیں کہ کہاں کہاں یا کس جگہ کے لیے سفر کرنا ہے۔ پہلے سے یہ طے کرلینا کہ کون سا راستہ اختیار کرنا ہے اور راستے میں کتنے ٹریفک سگنل اور رش ملے گا۔ اس کے لیے بہتر ہے کہ فون پر سیٹلائیٹ نیوی گیشن یا پھر میپس سے فائدہ اٹھایا جائے اور ممکن ہو تو ایسا راستہ لیا جائے جس میں کم جگہ رکنا پڑے۔

انجن میں پانی کی بجائے کولنٹ استعمال کرنا کیوں ضروری؟Courtesy PakWheels.comآپ کی گاڑی انجن جس کو “انٹرنل کمبسشن انجن” بھ...
14/02/2023

انجن میں پانی کی بجائے کولنٹ استعمال کرنا کیوں ضروری؟
Courtesy PakWheels.com
آپ کی گاڑی انجن جس کو “انٹرنل کمبسشن انجن” بھی کہا جاتا ہے اپنے آپریشن کے دوران بہت سے ہیٹ پیدا کرتا ہے۔ انجن کے درجہ حرارت کو نارمل رکھنے کیلئے اس میں ایک کولنگ سسٹم استعمال کیا جاتا ہے جس میں ریڈی ایٹر، پنکھوں، ہوزِز،تھرموسٹیٹ و دیگر چیزوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ سسٹم انجن کو زیادہ گرم ہونے سے روکتا ہے اور ایسے میں کولنٹ ایک بہترین آپشن ہے۔

انجن کولنگ سسٹم کا ایک اور اہم جزو لیکویڈ(liquid) بھی ہے جو انجن کے مختلف حصوں میں واٹر پمپ کے ذریعے گردش کرتا ہے۔ یہ لیکویڈ انجن میں موجود ہیٹ کو اپنے اندر جذب کر کے اسے ریڈیٹر کی جانب لے جانے کے بعد اس کو خارج کردیتا ہے۔ لیکویڈ کا درجہ حرارت ریڈیٹر کے پار چلنے والے پنکھے اور گاڑی چلنے کے دوران باہر سے آنے والی ہوا کی وجہ سے کم رہتا ہے۔

کولنٹ کا فنکشن
لیکویڈ واپس انجن کی طرف جاتا ہے اور انجن کی تمام گرمی سمیٹتے ہوئے ریڈیٹر کا رخ کرتا ہے اور یہ سائیکل چلتا رہتا ہے۔ اس لیکویڈ کا بنیادی کام ہیٹ کو جذب کر کے اسے انجن سے باہر منتقل کرنا ہوتا ہے۔

یاد رکھیں کہ انجن کے چلتے ہوئے کولنگ سسٹم کے اندر موجود لیکویڈ کا پریشر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انجن گرم ہو تو ریڈی ایٹر کیپ کو کھولنے سے گریز کریں۔ اس کے علاوہ انجن کے کولنگ سسٹم میں ریزروائر دیا جاتا ہے جہاں یہ لیکویڈ ٹرانسفر کیا جاتا ہے تاکہ اس کے پریشر کو کم کرتے ہوئے کولنگ سسٹم کے جزو کو نقصان سے محفوظ رکھا جائے۔

گاڑی کا کولنگ سسٹم انجن کو زیادہ سے زیادہ مستحکم درجہ حرارت پر رکھتا ہے قطع نظر اس سے کہ درجہ حرارت کتنا ہے۔ دوسری جانب اب زیادہ تر آنے والے انجنز اس طرح ڈیزائن کیے جاتے ہیں کہ وہ 105 سینٹی گریڈ پر آسانی کے ساتھ آپریٹ کر سکیں۔

کولنٹ اورعام پانی میں کیا فرق ہے؟
آپ کو بتاتے چلیں کہ سطح سمندر پر عام پانی کا بوائلنگ پوائنٹ 100 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے لیکن سطح سمندر سے اونچائی بڑھنے کی صورت میں بوائلنگ پوائنٹ میں کمی واقع ہونے لگتی ہے۔ یعنی کراچی میں پانی کا بوائلنگ پوائنٹ 100 ڈگری سینٹی گریڈ اور راولپنڈی میں 98 ڈگری سیںٹی گریڈ جبکہ مری میں 93 ڈگری سینٹی گریڈ ہوگا۔

اہم بات یہ ہے کہ عام پانی اپنے بوائلنگ پوائنٹ پر پہنچتے ہی ہیٹ جذب یا خارج کرنے کی بجائے بخارات بن کر اڑنے لگتا ہے جس سے انجن کے کولنگ سسٹم کی مجموعی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ بزید برآں یہ بخارات کولنگ سسٹم میں پریشر کو مزید بڑھاتے ہیں جس کی وجہ سے انجن میں ہیٹ مزید بڑھنے لگتی ہے یعنی انجن مزید گرم ہونے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر آپ عام پانی استعمال کرتے ہوئے جب آپ ریڈیٹر کیپ کھولتے ہیں تو آپ کو بہت سی بھاپ دیکھنے کو ملتی ہے اور اگر آپ اسی طرح مسلسل پانی کا استعمال کرتے ہیں تو امکانات ہیں کہ گاڑی کا انجن بری طرح متاثر ہوسکتا ہے۔

اس مسئلے کا حل یہی ہے کہ آپ پانی کی بجائے کولنٹ کا استعمال کریں کیوںکہ پانی کی نسبت کولنٹ کا بوائلنگ پوائنٹ زیادہ ہوتا ہے جو کہ کولنگ سسٹم میں موجود پریشر کی وجہ سے مزید بڑھتے ہوئے 135 ڈگری سینٹی گریڈ تک چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کولنٹ بھاپ بننے کی بجائے انجن کی ہیٹ کو خارج کرنے میں مدد کرتا ہے۔

کولنٹ کا ایک اور خاصیت
کولنٹ کا اور خاصیت یہ ہے کہ اور وہ یہ ہے کہ اس کا فریزنگ پوائنٹ کافی کم ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ اینٹی فریز کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ یہاں کولنٹ کا موازنہ پانی سے کیا جائے تو پانی کا فریزنگ پوائنٹ 0 ڈگری سینٹی گریڈ پر فریز ہو جاتا ہے جبکہ کولنٹ منفی 35 ڈگری سینٹی گریڈ پر بھی فریز نہیں ہوتا۔ ایسے میں قطع نظر کہ باہر درجہ حرارت کیا ہے انجن کی ہیٹ کو ٹرانسفر کرنے کی ضرورت رہتی ہی ہے۔ ایسے میں سخت سردی میں بھی انجن میں موجود لیکویڈ کو اپنا کام جاری رکھنا ہوتا ہے۔

چونکہ عام پانی 0 ڈگری سینٹی گریڈ پر فریز ہو جاتا ہے، اس لیے جب پانی کو انجن کے کولنگ سسٹم میں استعمال کیا جاتا ہے تو گاڑی پارک کرنے کی صورت میں یہ سردیوں میں فریز بھی ہو سکتا اور انجن سٹارٹ کرنے کی صورت میں غیر ضروری پریشر پیدا کر سکتا ہے۔ جیسا کہ پانی جم جانے کی صورت میں پھیل جاتا ہے تو اس صورت میں ریڈیٹر کوائل سمیت انجن کے دوسرے حصوں کو کریک بھی کرسکتا ہے۔ یہی وجہ کہ آپ کو انجن میں پانی کے استعمال سے روکا جاتا ہے۔

کولنٹ کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ انجن کے مختلف حصوں کو زنگ لگنے سے بھی بچاتا ہے جبکہ عام پانی استعمال کرنے کی صورت میں انجن کے حصوں کو زنگ لگنے کا خدشہ پایا جاتا ہے۔ خاص طور پانی واٹر پمپ قبل ازوقت خرابی کا باعث بھی بنتا ہے اور اگر انجن کو زنگ لگ جاتا ہے تو اس صورت میں سسٹم کو بلاک بھی کر سکتا ہے۔

آپ مختلف رنگوں میں کولنٹ خرید سکتے ہیں جو کہ اس کی کیمسٹری پر منحصر کرتا ہے۔ آپ سبز، لال، گلابی، اورنج، نیلے، پرپل رنگ میں کولنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ مختلف کار ساز کار اپنی مخصوص ضروریات کے مطابق مختلف قسم کے کولنٹ استعمال کرتے ہیں۔

کولنٹ کو انجن میں ڈالنے سے قبل اس میں مناسب مقدار میں پانی مکس ضرور کریں۔ اس کے علاوہ آپ دو مختلف رنگ کے کولنٹس کو مکس کر کے بھی استعمال نہیں کر سکتے۔

کبھی سمجھوتہ نہ کریں
بہتر یہی ہے کہ آپ وہی کولنٹ استعمال کریں جو کہ انجن میں پہلے سے ہی موجود ہے۔ کولنٹ کی کوالٹی پر یہر گز سمجھوتہ مت کریں بلکہ وہی کولںٹ استعمال کریں جو کہ کمپنی کی جانب سے تجویز کیا گیا ہے۔

اگر آپ اپنے انجن میں پانی کا استعمال کر رہے ہیں تو پانی مکمل طور پر خارج کر کے تجویز کردہ کولنٹ استعمال کریں۔ یاد رکھیں کہ کولنٹ کی بھی ایک مخصوص مدت ہوتی ہے جس کے بعد اسے تبدیل کرنا پڑتا ہے۔

اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ انجن میں موجود کولنٹ غیر معمولی طور پر کم ہو رہا ہے تو آپ اس بات کو یقینی بنائیں کہ انجن میں کوئی لیکیج نہیں ہے۔ اکثر اوقات ربڑ ہوز میں نہ نظر آنے والا سوراخ بھی لیکیج کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی لیے تاکید کی جاتی ہے کہ نہ صرف ربڑ ہوز کی ریگولر معائنہ کیا جائے بلکہ پرانا ہونے پر اسے بروقت تبدیل بھی کیا جائے۔

آخر میں یہ کہ کولنٹس خوبصورت رنگوں میں دستیاب ہوتے ہیں جو کہ کسی بھی زہر سے کم نہیں ہوتے لہذا ان کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔

14/02/2023

جوہرآباد اور خوشاب کے لیے!
اب گھر بیٹھے اپنی گاڑی دھلوائیں ہائی پریشر واشر کے ساتھ۔

We provide home service of car wash in Jauharabad.

Address

Jauharabad

Telephone

+923030796200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ShineNest Car Wash Jauharabad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Cleaning Service?

Share