05/01/2025
یہ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق چین میں ہیومن میٹا پینومو وائرس (HMPV) کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ HMPV ایک سانس کی بیماری کا وائرس ہے جو عام نزلہ زکام جیسی علامات پیدا کرتا ہے، جیسے کھانسی، بخار، ناک کا بند ہونا، اور گلے کی سوزش۔ تاہم، کمزور مدافعتی نظام والے افراد، بچوں، اور بزرگوں میں یہ وائرس برونکائیٹس یا نمونیا جیسی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔
چین کے نیشنل ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن ایڈمنسٹریشن کے حالیہ ڈیٹا کے مطابق، شمالی علاقوں میں 14 سال سے کم عمر افراد میں HMPV انفیکشن کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، چینی حکام اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ سردیوں کے موسم کے عام رجحانات کے مطابق ہے اور کسی بڑی وبا کی اطلاع نہیں دی گئی۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان، ماؤ ننگ نے کہا کہ سردیوں میں سانس کی بیماریوں کے کیسز عام طور پر زیادہ ہوتے ہیں اور حکومت صحت عامہ کے مسائل پر توجہ دے رہی ہے۔
چین کے صحت حکام نے اس صورتحال کے جواب میں ایک پائلٹ پروگرام شروع کیا ہے تاکہ نامعلوم وجوہات کی نمونیا کے کیسز کی نگرانی کی جا سکے اور نامعلوم وائرسز سے نمٹنے کے لیے بہتر اقدامات کیے جا سکیں، خاص طور پر سردیوں کے دوران سانس کی بیماریوں میں اضافے کی توقع کے پیش نظر۔
چین کے پڑوسی ممالک، جیسے بھارت، بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بھارت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کے مطابق، فی الحال HMPV کے حوالے سے تشویش کی کوئی وجہ نہیں ہے اور ملک میں سانس کی بیماریوں کے کیسز میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔
یہ جاننا ضروری ہے کہ HMPV کوئی نیا وائرس نہیں ہے؛ اسے سب سے پہلے 2001 میں دریافت کیا گیا تھا۔ اگرچہ یہ وائرس کمزور افراد میں سانس کی بیماری کا سبب بن سکتا ہے، لیکن یہ COVID-19 جیسے وائرسز کے مقابلے میں کم سنگین ہے۔ اس وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر میں شامل ہیں:
ہاتھوں کو بار بار دھونا
متاثرہ افراد کے قریب جانے سے گریز کرنا
بیماری کی صورت میں گھر پر رہنا تاکہ وائرس کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔
اس معلومات کو دوسروں کے ساتھ بانٹیں تاکہ لوگ اس وائرس کے بارے میں آگاہ ہو سکیں اور ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں۔