Community Led Total Sanitation - CLTS

Community Led Total Sanitation - CLTS CLTS refers to Community Led Total Sanitation. This is integrated approach to achieving and sustaining open defection free (ODF) status.

07/09/2024

‏اردو کے تمام حروف تہجی کو انتہائی خوبصورتی سے ایک جگہ یکجا کر کے پیش کیے جانے والا خوبصورت انتخاب ۔
.............
*میرا لفظ لفظ تراش کر۔
*مجھے حرف حرف تلاش کر.
میں"" الف"" ہوا تو الم ہوا.
ہوا ""ب ""تو باعث ِغم ہوا.
جہاں ""پ ""نے پاؤں جکڑ لئیے۔
وہیں ""ت ""نے تلوے پکڑ لئیے.
کہیں"' ٹ"" جو مجھ کو ٹکر گیا.
وہیں ""ث ""نے مجھ کو ثمر دیا.
کبھی ""ج"' مجھ کو جلا گیا.
کبھی ""چ ""نے چکر چلا دیا.
مگر ""ح ""نے حال بدل دیا.
اور ""خ ""نے خال بدل دیا.
تبھی ""د"" سے دل لگا لیا۔
اور ""ڈ"" سے ڈنکا بجا دیا.
پھر ""ذ"" سے ذات کو پا لیا.
اور ""ر"" سے رستہ بنا لیا.
اک ""ڑ"" سے بات بگڑ گئی۔
تب ""ز""سے زینت سنور گئی.
اور "ژ" سے ژاژ کا دم گیا۔
وہیں ""س"" سے میں سنبھل گیا.
کسی ""ش"" نے مجھے دی شعاع۔
تو ""ص""نے مجھے دی صبا.
اور ""ض"" نے دیا ضابطہ.
سر ِشام ""ط"" کے طنز سے.
سر ِ بزم ""ظ"" کے ظرف نے۔
میرے ""ع"' کو دیا عزم ِ نو.
میرے "'غ"" کو کیا غرض ِگو۔
یہیں ''ف" سے مل گیا فاصلہ.
یہیں "ق" سے ملا قافلہ.
یہیں """ک"" نے کہا کچھ نہیں.
یہیں ""گ"" نے گِنا کچھ نہیں..
ملا "ل" تو اس نے لڑا دیا.
میرے "م" نے مجھے آ کہا.
تیرا "'ن"" تجھ سے نِراش ہے.
تیرا ""و"" وقت کی آس ہے۔
کہا ""ہ"" نے ہاتھ کو تھام بس.
میری ""ی"" نے آ کے یقیں دیا.
بڑی "ے" یہاں کی ہے سربراہ.
ابھی وقت ہے تو تلاش کر.
مجھے لفظ لفظ تراش کر۔

15/07/2024

‏کیوں کہ میرا وزیر اب اس دنیا میں نہیں رہا☆○☆

دوران ، انٹرویو ۔۔
آپ اس جاب کے لئے کتنی سیلری کی توقع رکھتی ہیں ۔۔؟

کم از کم نوے ہزار ۔۔۔ خاتون نے پر اعتماد انداز میں جواب دیا ۔۔

کسی کھیل سے دلچسپی ؟؟؟
باس نے پوچھا ۔۔

جی ہاں ۔۔ شطرنج کھیلتی ہوں ۔۔
آہاں ۔۔چلیں اسی حوالے سے بات کرتے ہیں ۔۔
شطرنج کی کون سی گوٹی آپکو زیادہ پسند ہے ۔۔۔ یا یوں کہہ لیں کہ کس گوٹی سے متاثر ہیں ۔۔۔
خاتون نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔ وزیر ۔۔
زبردست ،لیکن کیوں ؟ جبکہ میرے خیال میں گھوڑے کی چال سب سے منفرد ہے ۔۔ باس نے تجسس سے پوچھا ۔۔

بیشک ۔لیکن میں سمجھتی ہوں کہ وزیر میں وہ تمام خوبیاں شامل ہیں جوسب گوٹیوں میں الگ الگ سے پائی جاتی ہیں ۔ وہ پیادے کی طرح ایک قدم چل کر بادشاہ کو بچا لیتا ہے اور کبھی فيلے کی طرح ترچھا چل پڑتا ہے اور کبھی توپ بن کر بچا لیتا ہے ۔

ویری انٹرسٹڈ۔۔ باس نے متاثرکن انداز میں پوچھا ۔ بادشاہ کے متعلق آپکی کیا رائے ہے۔؟؟

سر ، بادشاہ کو میں سب سے زیادہ کمزور سمجھتی ہوں ،کیوں کہ وہ خود کو بچانے میں صرف ایک قدم چل سکتا ہے جبکہ وزیر اسے چاروں اطراف سے بچا سکتا ہے ۔۔ خاتون کا جواب ۔

نہایت متاثر کن ۔۔ چلیں یہ بتائیے ان تمام گوٹیوں میں سے آپ خود کو کون سی گوٹی تصور کرتی ہیں ۔۔
خاتون نے جھٹ سے جواب دیا ۔۔
بادشاہ ۔۔

لیکن وہ تو آپکے مطابق مجبور ہوتا ہے ،خود کو بچا نہیں پاتا اور وزیر کا مرہون منت ہوتا ہے ۔۔ باس نے حیرانی سے پوچھا ۔۔۔

جی ہاں ،میرے مطابق یہی ہے ۔ میں بادشاہ ہوں اور وزیر میرے شوہر جو میری حفاظت مجھ سے بڑھ کر، کر سکتے ھیں ۔۔۔
ویری نائس ۔ انٹرویو لینے والے نے باقاعدہ ہلکے ہاتھوں تالی بجاتے ہوئے کہا ۔۔
اچھا ایک آخری سوال ، آپ یہ جاب کیوں کرنا چاہتی ہیں ۔ باس نے دلچسب انٹرویو کا
احتتام کرتے ہوئے پوچھا ۔۔
خاتون نے بھرائی ہوئی آواز میں جواب دیا ۔۔۔

کیوں کہ میرا وزیر اب اس دنیا میں نہیں رہا ۔۔

13/07/2024

وہ بھی ایک وقت تھا
جب ایک عورت اپنی بھابی کے لیے دیسی ساگ چن رہی تھی کہ صبح وہ اپنے ساتھ مظفرآباد لے جاسکے
وہ بھی ایک وقت تھا
جب جلدی جلدی مکی کے دانے پسواے جا رہے تھے تاکہ صبح رشتہ داروں کو تحفہ بھیجا جا سکے
وہ بھی ایک وقت تھا
جب بوڑھی دادی اپنے پوتے کو بھاگ کر گچھ لے کر آنے کو کہہ رہی تھی کہ جلدی لے آو صبح جانا بھی ہے۔
وہ بھی ایک وقت تھا
جب پڑوسن صبح سویرے دودھ کی بوتل اپنی سپہلی کے حوالے کر رہی تھی تاکہ اپنے طالبعلم بیٹے کو تازہ دیسی دودھ مل جاے
وہ بھی ایک وقت تھا
جب نی نویلی دلہن اپنے شوہر کو گھر والوں کے سامنے رخصت کرتے وقت آنکھ بچا کر سلام کر رہی تھی
وہ بھی ایک وقت تھا
جب دولہا اپنی دلہن سے مظفرآؓباد سے جلد واپس آنے اور ڈھیر سارے تحفے لانے کا وعدہ کر رہا تھا
وہ بھی ایک وقت تھا
جب دو گہرے دوست جن کی شادی بھی ایک ساتھ ہوی تھی ایک ساتھ مظفرآباد جانے کا پروگرام ہنسی خوشی بنا رہے تھے
وہ بھی ایک وقت تھا
جب بیوہ عورت جس نے چالیس سال بیوگی میں گزارتے ہوے اپنی اولاد کو پالا تھا اب بڑے فخر سے ان کےساتھ مظفرآباد جانے کا پروگرام بنا رہی تھی
وہ بھی ایک وقت تھا
جب نوجوان ڈراءیور اپنے دوستوں کے ساتھ لڈو میچ ہارنے کے بعد مظفرآباد سے اسی دن واپسی پر شکست کا بدلہ لینے کا اعلان کر رہا تھا
مگر قدرت کا تو الگ ہی پروگرام تھا
پھروہ ہو گیا جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا
اب وہ وقت آ گیا
جب ایک ہی دن ایک ہی گاوں میں ۱۵جنازے لانے پڑے
اب وہ وقت آگیا
جب ایک ہی گھر سے سات جنازے اٹھانے پڑے
اب وہ وقت آ گیا
جب بوڑھی آنکھوں نے اپنے سامنے اپنے قابل بیٹے کو ٹوٹی پھوٹی حالت میں پڑے دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا
اب وہ وقت آ گیا
جب جن کی شادی اکھٹی ہوی تھی ان کے جنازے بھی اکٹھے اٹھانے پڑے
اب وہ وقت آ گیا
جب تمام سوغاتیں دریا کنارے پڑی تھیں اور ان کی طرف دیکھنے والا بھی کوی نہ تھا
اب وہ وقت آ گیا
جب بیوہ عورت اپنے بچوں کے ساتھ ہی اس دنیا سے چلی گی
سارے اپنے پیاروں کی منتظر ہی رہ گے
اور وہ پیارے اللہ کو پیارے ہو گے
انا للہ واناالیہ راجعون

30/03/2024

‏ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ہے؟
جواب ملا...
میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا لوگوں نے شور مچا رکھا ہے.
آجکل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ دراصل خواہشات کا پورا نہ ہونا ہے
‏ہم نے تو غربت کے وہ دن بھی دیکھے ہیں کہ اسکول میں تختی پر (گاچی) کے پیسے نہیں ہوتے تھے تو (مٹی) لگایا کرتے تھے.
(سلیٹ) پر سلیٹی کے پیسے نہیں ہوتے تھے (بجری کا کنکر) استعمال کرتے تھے.
اسکول کے کپڑے جو لیتے تھے وہی عید پر بھی پہن لیتے تھے.
‏اگر کسی شادی بیاہ کے لیے کپڑے لیتے تھے تو اسکول کلر کے ہی لیتے تھے.
کپڑے اگر پھٹ جاتے تو سلائی کر کے بار بار پہنتے تھے.
جوتا بھی اگر پھٹ جاتا بار بار سلائی کرواتے تھے.
اور جوتا سروس یا باٹا کا نہیں پلاسٹک کا ہوتا تھا.
‏گھر میں اگر مہمان آجاتا تو پڑوس کے ہر گھر سے کسی سے گھی کسی سے مرچ کسی سے نمک مانگ کر لاتے تھے.
آج تو ماشاء اللہ ہر گھر میں ایک ایک ماہ کا سامان پڑا ہوتا ہے.
مہمان تو کیا پوری بارات کا سامان موجود ہوتا ہے.
آج تو اسکول کے بچوں کے دو یا تین یونیفارم ضرور ہوتے ہیں
‏آج اگر کسی کی شادی پہ جانا ہو تو مہندی بارات اور ولیمے کے لیے الگ الگ کپڑے اور جوتے خریدے جاتے ہیں.
ہمارے دور میں ایک چلتا پھرتا انسان جس کا لباس تین سو تک اور بوٹ دوسو تک ہوتا تھا اور جیب خالی ہوتی تھی.
‏آج کا چلتا پھرتا نوجوان جو غربت کا رونا رو رہا ہوتا ہے اُسکی جیب میں تیس ہزار کا موبائل، کپڑے کم سے کم دو ہزار کے، جوتا کم سے کم تین ہزار کا...
غربت کے دن تو وہ تھے جب گھر میں بتّی جلانے کے لیے تیل نہیں ہوتا تھا روئی کو سرسوں کے تیل میں ڈبو کر جلا لیتے...
‏آج کے دور میں خواہشوں کی غربت ہے...
اگر کسی کی شادی میں شامل ہونے کے لیے تین جوڑے کپڑے یا عید کے لیے تین جوڑے کپڑے نہ سلا سکے وہ سمجھتا ہے میں
غریب ہوں.
آج خواہشات کا پورا نہ ہونے کا نام غربت ہے.
ہم ناشکرے ہوگئے ہیں, اسی لئے برکتیں اٹھ گئی ہیں. (منقول)

Dhaman Johl Village declared as Open Defection Free Village after triggring. Excellent achievement of CLTS practitioners...
16/12/2014

Dhaman Johl Village declared as Open Defection Free Village after triggring. Excellent achievement of CLTS practitioners. Well Done and Keep it up.

LG&RDD CLTS practitioners after completing 5 Day training conducted by WSP with the help of Plan International.
15/12/2014

LG&RDD CLTS practitioners after completing 5 Day training conducted by WSP with the help of Plan International.

15/12/2014
15/12/2014
15/12/2014

The population of Azad Jammu and Kashmir (AJK) has increased to 4,567,982 with almost 88:12 rural/urban population divide, where a huge proportion consists of rural populace. The overall population growth rate of AJK at roughly 2.41% is the highest in South Asia with population density of 312 per square kilometer . Overall 57% of population has access to safe drinking water resources and 62% households have latrine facilities (mainly urban areas); the open defecation (OD) rates of 45% in rural AJK is quite high given the majority of population are residing in rural areas.

National health statistics reveal the challenge the country is faced with. In AJK, Infant Mortality Rate (IMR) is approximately 62 per 1,000 and mortality rate for children under 5 is 95 per 1000 children’s deaths (national rate). USAID reports that 60% of child mortality cases are due to poor water and sanitation. Whereas, Diarrhea alone causes 16% of these deaths ; roughly one-third of under five children face malnutrition . This calls for improved sanitation services if nation is to achieve improved health status.

Findings from the recent Economics of Sanitation Initiative (ESI) study launched in 2012 by Water and Sanitation Program (WSP) indicate that the overall economic cost of poor sanitation may be estimated as 344 billion PKR ($5.7 billion) per year, a sum equivalent to 3.9 % of the nation’s GDP. This accounts for approximately 2,160 PKR per person per year. As signatory to the Millennium Development Goals (MDGs), the Government of Pakistan has committed to decrease the population without access to adequate sanitation by half by 2015.

Post 18th Amendment to the Constitution, sanitation is now completely provincial/state matter. At present AJK is lagging behind in 13% of drinking water and 8% for sanitation access coverage. Since the above mentioned implications due to inadequate sanitation demands for an immediate attention otherwise will add substantive burden to the exchequer if not addressed appropriately. There is an urgent need to address these issues at the earliest so that the vulnerable and poor are provided with the better living conditions.

AJK has had a revisited development vision in sanitation after SACOSAN-II and prepared its first Sanitation policy in 2008 that emerged as a discrete priority item in the development frameworks. The AJK Sanitation Policy support community mobilization, gender mainstreaming and a shift from infrastructure-led paradigm. A few initiatives in recent past have been taken up to cater for water, sanitation and hygiene issues. As such UNICEF, through its implementing partner PLAN Pakistan carried out ‘Scaling up of Rural Sanitation Program in Flood Affected Areas’ in two Union Councils of AJK during Early Recovery Phase of flood emergency response. Though these programs have shown some encouraging results, however, in particular these efforts were primarily focused on a limited scale and were technology focused and hardware driven, unable to affect changes in people behaviors at the individual and communal levels at large. Among others, key challenges to achieving adequate sanitation in AJK is the low priority given to sanitation in the public sector, lack of awareness, non establishment of proper and institutionalized linkages between hygiene & health, community education and participation especially towards achieving improved sanitation. Realizing the importance the GoAJK has given some priority to the water and sanitation sector in the forthcoming 11th five year development plan and vision 2025 which are under preparation.

Being the key water & sanitation sector agency responsible for sector policy planning, the department of Local Government and Rural Development (LGRD) is cognizant of the situation and has decided to embark upon a Rural Sanitation Scale-up Program to achieve the sector target. With the assistance of WSP it has formulated this program implementation strategy to safeguard and protect its citizens from adverse effects of inadequate sanitation by:

1. Eradicating open defecation from rural AJK by the end of 2016;
2. Promoting safe and hygienic sanitary practices specifically for poor and vulnerable groups;
3. Assisting and facilitating communities in climbing up the sanitation ladder i.e. communities that have achieved ODF status to adopt improved sanitation practices; and
4. Launching awareness raising campaign to change the behavior of communities for achieving improved sanitation practices.

Address

Muzaffarabad

Telephone

03418867038

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Community Led Total Sanitation - CLTS posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Community Led Total Sanitation - CLTS:

Share