AYAN ALI

AYAN ALI I LOVE PAKISTAN

14/03/2026
12/03/2026

Pakistan zindabad

‏ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو!ایک زمانہ ایسا بھی تھا کہ جب کوئی ایک امریکی بیڑا حملے کی دھمکی کے ساتھ کسی ملک کی طرف بڑھتا تھ...
12/03/2026

‏ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو!
ایک زمانہ ایسا بھی تھا کہ جب کوئی ایک امریکی بیڑا حملے کی دھمکی کے ساتھ کسی ملک کی طرف بڑھتا تھا تو
بیڑے کی روانگی کے ساتھ ہی اُس ملک کی فوجیں سرینڈر کرتی تھیں
حکمران کرسی چھوڑ دیتے تھے
سیاستدان چاپلوسی شروع کردیتے تھے
اور امریکہ آسانی سے اُس ملک پر قبضہ کرکے وہاں اپنے اڈے قائم کردیتا تھا
اپنی کٹھ پتلی حکومت تشکیل دیتا تھا
اور وہاں کے وسائل جی بھر کر لوٹتا تھا
لیکن اس بار اُس کا سامنا حیدر کرار ع کے پیروکاروں سے ہوا ہے جو پلٹ پلٹ کر وار کرنے کی صفت اور روایت رکھتے ہیں
اس دفعہ اُس نے صرف ایک بیڑا نہیں بلکہ کئی بیڑے بھیجے، فوجیں بھیجیں، فائٹر جیٹس سارے ایران کے گرد جمع کئے، ہمسایوں کے ذریعے پریشر بنایا
لیکن علی ع کا فرزند علی رح ڈٹا رہا
پھر اس پلانٹڈ پاگل نے واقعاً پاگل ہوکر تاریخ کی وہ غلطی کی کہ جس کی وجہ سے اب امریکہ اُن تمام ریاستوں کے وسائل اور اپنے قائم کردہ اڑوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا ہے جن پر اس نے فقط رعب جماکر قبضہ کیا ہوا تھا
یقین مانیں
حیدریون نے اس نجاست کے منہ پر وہ زور دار تاریخی طمانچہ رسید کیا ہے کہ جنگ کے اختتام تک یہ مزید پاگل ہوگا اور اپنی بقاء کی جنگ لڑنے کا آغاز تو کرےگا مگر کبھی نہیں سنبھل پائے گا
اس کا انجام فرعون جیسا ہوگا، ایران اسلامی دنیا کا نیا سپر پاور بنےگا اور اسرائیل کا وجود ختم ہو جائے گا
ان شاءاللہ

آج  ہم  اس خاندان کے گھر گئے جس خاندان کے نوجوان کی ہڈیاں چار دن پہلے وادی تیراہ، اکاخیل میں ملی تھیں۔ ہم نے اہلِ خانہ ک...
11/03/2026

آج ہم اس خاندان کے گھر گئے
جس خاندان کے نوجوان کی ہڈیاں چار دن پہلے وادی تیراہ، اکاخیل میں ملی تھیں۔ ہم نے اہلِ خانہ کے ساتھ دعا کی اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
یہ کوئی عام واقعہ نہیں بلکہ ایک طویل اور دردناک داستان ہے۔
سن 2017 کے شروع میں اس نوجوان کو اور ساتھ میں اور بندوں کو وادی تیراہ خزیانہ چیک پوسٹ پر تعینات فوج نے ایک دھماکے کے الزام میں گرفتار کیا تھے۔
یہ لوگ نہ کوئی طاقتور لوگ تھے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی وسیلہ تھا۔ وہ صرف غریب اور بے بس لوگ تھے، جن کی آواز کہیں نہیں سنی گئی۔
گرفتاری کے وقت ان پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ
“تم دہشتگردوں کو روٹی دیتے ہو اور ان کے سہولتکار ہو۔”
بعد میں اسی الزام کی بنیاد پر ان کے پورے گھروں کو بھی جلا دیا گیا۔
اس وقت قوم کے مشران نے ان کی رہائی کے لیے بہت کوششیں کیں۔
فوج سے پوچھا گیا تو جواب ملا کہ انہیں بریگیڈ بھیج دیا گیا ہے۔
مشران جب بریگیڈ پہنچے تو وہاں بتایا گیا کہ انہیں کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
پھر سالوں تک یہی جواب ملتا رہا:
“وہ نامعلوم مقام پر ہیں۔”
مگر ان کے گھروں میں وقت جیسے رک سا گیا تھا۔
ان کے بچے اپنے باپ کے انتظار میں،
بیویاں اپنے شوہروں کے انتظار میں،
اور بوڑھے والدین اپنے بیٹوں کی واپسی کے انتظار میں بیٹھے رہے۔
ایک ماں آج بھی دروازے پر ذرا سی آواز سنتی ہے تو پوچھتی ہے:
“کون آیا ہے؟”
شاید اس امید میں کہ اس کا بیٹا واپس آ گیا ہو۔
لیکن حقیقت اس انتظار سے کہیں زیادہ دردناک نکلی۔
بعد میں جب وادی تیراہ سے فوج کے انخلا کے دوران چیک پوسٹوں کو دھماکوں سے اڑایا گیا تو انہی دھماکوں میں ان تین نوجوانوں کی قبریں بھی تباہ ہو گئیں۔
جب گاؤں کے لوگ وہاں پہنچے تو مٹی کے نیچے سے انسانی ہڈیاں ملیں۔
ان میں سے ایک نوجوان کی شناخت اس طرح ممکن ہوئی کہ وہ پہلے ایک حادثے میں چٹان سے گر گیا تھا اور ڈاکٹر نے اس کی دونوں ٹانگوں میں اسٹیل کے راڈ لگائے تھے۔
آج انہی راڈز نے سچ کو بے نقاب کر دیا، کیونکہ اس کی ٹانگوں کی ہڈیوں میں وہ اسٹیل کے راڈ اب بھی موجود تھے۔
یہ ہڈیاں صرف تین انسانوں کی باقیات نہیں ہیں…
یہ ایک خاموش چیخ ہیں۔
یہ اس ظلم کی گواہی ہیں جس میں لوگوں کو اٹھایا جاتا ہے،
ان کے خاندانوں کو برسوں تک اندھیرے میں رکھا جاتا ہے،
اور پھر سچ کو مٹی کے نیچے دفن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
کاپی

Address

Lahore University Of Management Sciences, DHA

54570

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AYAN ALI posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Cleaning Service?

Share